جادو جنات
(1)جادو کرنا اور کروانا حرام ہے:
فرمان باری تعالی ہے :
[وَاتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّيٰطِيْنُ عَلٰي مُلْكِ سُلَيْمٰنَ ۚ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمٰنُ وَلٰكِنَّ الشَّيٰطِيْنَ كَفَرُوْا يُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ][البقرۃ:102]
’’ا ور اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین (حضرت) سلیمان کی حکومت میں پڑھتے تھے۔ سلیمان نے تو کفر نہ کیا تھا، بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا، وہ لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے‘‘
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ جادو حرام ہے نیز جادو شریعت محمدیہ ہی میں نہیں بلکہ تمام ادیان میں حرام ہے .[2]
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم :
’’ اجْتَنِبُوا السَّبْعَ المُوبِقَاتِ۔۔۔۔الشِّرْكُ بِاللہِ، وَالسِّحْرُ ’’[3]
’’تباہ کرنے والی سات چیزوں سے بچو ! اللہ کے ساتھ شرک کرنے سے اور جادو کرنے سے‘‘
(2) جادو کرنے والے کا حکم:
الف: اگر جادو جنات وشیاطین کے ذریعے سے کیا جائے اور جادو سیکھتے ، سکھاتے ہوئے جنات وشیاطین کے تقرب کے حصول کےلیے ان کی عبادت کی جائے تو یہ اللہ تعالی کے ساتھ شرک ہے۔
ب: اگر جادو دوائیوں اور جڑی بوٹیوں کے ذریعے سے کیا جائے تو یہ ظلم و زیادتی اور کبیرہ گناہ کے زمرے میں آئے گا۔[4]
(3) جادو گر کی سزا:
الف: ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا پر ان کی باندی نے جادوکیا تھا لہٰذا اُم المؤمنین نے (بطور سزا) اسے قتل کرنے کا حکم دیاتو اسے قتل کردیاگیا۔
[5]
ب:سیدنا بجالہ بن عبدۃ سے مروی ہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات سے ایک برس پہلے انیس کو یہ خط لکھا کہ ’’ہر جادو گر کو قتل کردیا جائے، تو ہم نے (ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے) تین جاوگروں کو قتل کردیا۔
[6]
ج: جندب الخیر  فرماتے ہیں: ’’حد الساحر ضربۃٌ بالسیف‘‘ ’’جادوگر کی سزا قتل ہے‘‘
[7]
جادو کروانے کے مقاصد:
جادو کرنے یاکروانے کے بنیادی مقاصد میں سے تین مندرجہ ذیل ہیں:
الف:میاں بیوی میں لڑائی جھگڑا کرواکر ان کو ایک دوسرے کے لیے اتنا ناپسندیدہ کر دینا کہ نفرت کی انتہاء ہوجائے تاکہ خاوند اور بیوی میں علیحدگی ہوجائے ۔
فرمانِ باری تعالی  فَيَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهٖ ] [البقرۃ:102]
’’پھر لوگ ان سے وہ سیکھتے جس سے خاوند و بیوی میں جدائی ڈال دیں ‘‘
ب:مالی اعتبار سے کسی کو نامستحکم کرنا:
اکثر اوقات احباب اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ نامعلوم طریقے سے ان کے زیورات یا نقدی گم ہو جاتی ہے ، یا پھر ان کے کاروبار میں بندش ہے جہاں ان پر پریشانیوں کے دیگر امکانات ہیں وہاں یہ امکان بھی قابل غور ہے کہ شاید کسی شیطان جادو گر یا اس کے کسی چیلے کی کارستانی ہوگی ۔
سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقہ فطر (کے گلے) کی نگرانی کے لیے مقرر فرمایا تو شیطان ایک آدمی کی شکل میں مسلسل تین دن تک گلہ چوری کرنے کے لیے آتا رہا۔[8]
ج: پریشان اور خوفزدہ کرنا:
فرمان باری تعالی ہے:
[فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ اِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰي 66؀ ،فَاَوْجَسَ فِيْ نَفْسِهٖ خِيْفَةً مُّوْسٰى 67؀ قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى 68؀][طٰہ 66،67،68]
’’ اب تو موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے دوڑ بھاگ رہی ہیں ۔ پس موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دل ہی دل میں ڈر محسوس کیا۔ ہم نے فرمایا کچھ خوف نہ کر یقیناً تو ہی غالب اور برتر رہے گا ۔‘‘
یہ خوفزدگی اور پریشانی صرف موسی ٰ علیہ السلام کے لیے نہیں تھی بلکہ تمام حاضرین اس جادوئی تاثیر کی وجہ سے گھبراہٹ اور بے چینی سے دوچار ہوگئےتھے، جیساکہ فرمان باری تعالیٰ ہے:
[فَلَمَّآ اَلْقَوْا سَحَرُوْٓا اَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوْهُمْ وَجَاۗءُوْ بِسِحْرٍ عَظِيْمٍ ][الاعراف:116]
’’ پس جب انہوں نے ڈالا تو لوگوں کی نظر بندی کردی اور ان پر ہیبت غالب کردی اور ایک طرح کا بڑا جادو دکھایا ۔‘‘

مندرجہ بالا آیات سے یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہےجادو کی وجہ سے انسانی طبیعت پہ جو ناگوار اثرات مرتب ہوتےہیں ان میں سے ایک خوف زدہ ہونا اور دوسرا اشیاء کا خوفناک چیزوں کا روپ دھارکر خلاف حقیقت نظر آنا بھی ہے لہٰذا اگر کوئی عالمِ بیمار ی میں اس بات کا اظہار کرے کہ اسے خوف محسوس ہوتا ہے یا پھر خوفناک چہرے اور ڈراؤنی چیزیں نظر آتی ہیں تو اس کی تردید کرنے کی بجائے اس کی پریشانی کو سمجھنے کی کوشش کریں بلکہ اگر ہوسکے تو اس کے غم میں شریک ہوکر اس کی تکلیف کو کم کرنے کی کوشش کریں ۔
پیر محمد عبیداللہ نقشبندی،،،03035062601

Comments