pir hakeem abeedullah naqshbandy shab

  • 2,, جادو جنات 5 جادو کی اقسام: جادو کی بنیادی دو قسمیں ہیں ان کا تذکرہ کرنے کے بعد ہم بقیہ ذیلی اقسام کا بھی تذکرہ کریں گے ۔ أ: نظر کا دھوکہ: جادو کی اس قسم میں انسان کی نظروں کو دھوکا دیا جاتاہے جس میں حقیقی طور پر توانسان متاثر نہیں ہوتامگر انسان کے تخیلات پر گہرا اثر ہوتاہے اور اشیاء اپنی اصل ماہیت بدل کر خوفناک شکل دھار لیتی ہیں اور اچھا بھلا ذی شعور ، بہادر آدمی خوفزدہ ہوجاتاہے ، جیساکہ فرعون کے جادو گروں نے موسیٰ علیہ السلام سے مقابلہ کرتے وقت لوگوں اور موسیٰ علیہ السلام کے تخیل پر اثر انداز ہوکر اسی جادو کے زور سے لاٹھیوں اور رسیوں کو سانپوں کی شکل میں تبدیل کردیا جس سےعام لوگ تو ڈرے ہی ڈرے وقتی طورپر موسیٰ علیہ السلام بھی گھبرا گئے۔ شعبدہ بازی اور ہاتھ کی صفائی بھی اسی قبیل سے ہے، لوگوں کی دھوکہ دہی کےلئے اس طرح کے کرتب اور کرشمے کوئی شخص بھی سیکھ سکتاہے ، حتیٰ کہ اب تو مختلف قسم کے کرتب اور شعبدے سیکھنے کی بہت سی کتب بھی مارکیٹ میں دستیاب ہیں ، جادو کی اس قسم کو ’’مجازی‘‘ بھی کہا جاتاہے [9]۔ ب:کسی انسان کو حقیقتاً متاثر کرنا: اس قسم میں انسان کو تکلیف دی جاتی ہے جس کے اثرات بد اپنی ذات میں واضح طور پر محسوس کرتاہے ، اسے بیمار کہا جاتاہے، ڈرایا بھی جاسکتا ہے ، جسم کے کسی حصے میں مستقل درد شروع ہوجاتاہے جو ڈاکٹر حضرات کی سمجھ سے بالاتر ہوتاہے حتیٰ کہ انسان کی موت بھی واقع ہوجاتی ہے اور اس سارے عمل کےلیے ارواح خبیثہ اور جنات وشیاطین کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ [10] اس جادو میں انسان کو دو طرح سےتکلیف دی جاسکتی ہے 1چمٹ کر: فرمان باری تعالی ہے : [اَ لَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا يَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا يَقُوْمُ الَّذِيْ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ] ’’ جو لوگ سود کھاتے ہیں ۔ وہ یوں کھڑے ہوں گے۔ جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر اسے مخبوط الحواس بنا دیا ہو۔‘‘[البقرۃ:275] امام ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی شرح میں لکھتے ہیں : ’’لایقومون من قبورھم یوم القیامۃ إلاکما یقوم المصروع حال صرعہ وتخبط الشیطان لہ۔‘‘[11] ’’سود خور روز قیامت اپنی قبروں سے یوں کھڑے ہوںگے جیسے مرگی زدہ اس وقت کھڑا ہوتاہے جب شیطان اسے چُھو کر پاگل بنادیتاہے‘‘ اس صور ت میں شیطان اور جن وغیرہ انسانی جسم پر قبضہ حاصل کرکے اسے اس حد تک خبطی بنا دیتاہے کہ انسان کا خود پر بھی کوئی اختیار نہیں رہتا اور وہ دیوانگی میں ایسی حرکات کا ارتکاب کرتاہے جن کا تندرستی میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتاپھر جب ا سے اس تکلیف سے نجات ملتی ہے اور اسے ان حرکات کا بتایا جاتاہے جو اس سے عالم دیوانگی میں سرزد ہوئی ہیں تو سرے سے اس کا انکار کردیتاہے کہ اس نے ایساکچھ کیا ہے۔ سیدناعثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طائف کا گورنر مقرر کیا تو مجھے یوں لگتا کہ نماز میں کوئی چیز چہرے کے سامنے آتی ہے جس کی وجہ سے مجھے یہ علم نہیں رہتا کہ میں نے نماز میں کیا پڑھا ہے؟ تو جب میں نے ایسا محسوس کیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخت سفر باندھا میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! نمازوں میں کوئی چیز میرے سامنے آجاتی ہے اور مجھے علم نہیں رہتا کہ میں کیا پڑھ رہاہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ شیطان ہے، ذرا قریب آؤ ‘‘ میں آپ کے قریب ہوکر اپنے پنجوں کے بل بیٹھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے ساتھ میرے سینے پر ضرب لگائی او ر دم کرکے میرے منہ پر پھونکا اور فرمایا: ’’ اُخرج عدواللہ‘‘ اےاللہ کےدشمن نکل جا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ایسا کہا ، پھر فرمایا : ’’جاؤاپنی ذمہ داری انجام دو ‘‘ سیدنا عثمان فرماتے ہیں کہ پھر مجھےیہ شکایت نہ رہی[12]۔ اس پریشانی سے بچنے کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ ہم ہر اس کا م سے گریز کریں جس کی وجہ سے شیطان ملعون ہمارے رگ وپے میں سرایت کر کے ہمیں تکلیف اور پریشانی سے دوچار کرتاہے اور ان حالات میں جن میں شیطان انسانی جسم کا کنٹرول حاصل کرلیتاہے ان سے بچیں ، ذیل میں ان حالات کا تذکرہ پیش خدمت ہے جن میں انسان آسیب زدگی میں مبتلاء ہوسکتاہے۔ (1)سخت غصے کی حالت (2)سخت خوف کی حالت (3)سخت غفلت کی حالت (4)انتہائی خوشی کی حالت (5)حرام طریقے سے شہوت رانی کی حالت [13] آسیب زدگی کے بعض اسباب: شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’اکثر یہ چیزیں بغض اور بدلہ لینے کے سبب بھی ہوتی ہیں ، مثال کے طور پر اگر جنوں کو کوئی انسان تکلیف پہنچادے یا انہیں بد گمانی ہوجائے کہ فلاں انسان نےعمداً ان کو تکلیف پہنچائی ہے یا پہنچا رہا ہے ، خواہ ایسا ان میں سے کسی پر پیشاب کرنے کی صورت ہویا ان پر یا ان کی اولاد میں سے کسی پر گرم پانی پھینکے یا ان میں سے کسی کو قتل کرنے کی شکل میں ہو ، حالانکہ وہ انسان اس بات سے سرے سے لاعلم ہی ہو، چونکہ ان میںجہالت کے ساتھ ظلم کرنے کا مزاج بھی ہوتا ہے اسی لیے اکثر وہ اس انسان کو جس سزاکا مستحق سمجھتےہیں سزا دینے لگ جاتےہیں، کبھی جنوں کی طرف سے یہ شر بلاوجہ بھی ہوتاہے۔ 2چمٹے بغیر: اس صورت میں جنات وغیرہ انسان کو مختلف اذیتیں پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں ، مثلاً کبھی انسان کی اشیاء چوری ہوجاتی ہیں تو کبھی اسے وسوسوں کے ذریعے مختلف اوہام میں مبتلاء کرکے وہمی بنادیا جاتاہے اور کبھی انسان کو یہ محسوس ہوتاہے جیسے کوئی اس کا گلا دبا نے کی کوشش کررہاہے یا پھر ڈراؤنے خواب آنا شروع ہو جاتےہیں۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتےہیں : ’’وقد جعل اللہ للشیطان دخولاً فی جوف العبد ونفوذاً إلی قلبہ وصدرہ ، فھو یجری منہ مجری الدم ، وقد وکل بالعبد فلایفارقہ إلی الممات‘‘ ترجمہ:’’اللہ تعالیٰ نے شیطان کو بندے کے جسم اور دل میں داخلے کی قوت وطاقت دے رکھی ہے ، جوکہ اس کے جسم میں خون کی مانند چلتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اسے ہر انسان کے ساتھ نتھی کردیا ہے ، موت تک اس سے الگ نہیں ہوتا‘‘۔ ۱-صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے جب وسوسوں کی شکایت کی تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا :’’ ذاک صریح الایمان‘‘’’یہی اصل ایمان ہے‘‘۔ وسوسوں کے متعلق فرمان باری تعالی ہے: [الَّذِيْ يُوَسْوِسُ فِيْ صُدُوْرِ النَّاسِ،مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ][سورۃ الناس:6-5] ’’جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے، (خواہ وہ) جنات سے (ہو) یا انسانوں میں سے‘‘ شیاطین الجن کو اللہ تعالی نے انسانوں کو گمراہ کرنے کی قدرت دی ہے علاوہ ازیں ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان اس کا ساتھی ہوتا ہے جو اس کو گمراہ کرتا رہتاہے۔ [16] وسوسے کے ذریعے سے شیطان مردود ہنستے بستے گھر اجاڑ دیتاہےبھائی بھائی کے متعلق بد گمانی کا شکار ہوتاہے توماں کا بیٹی ،باپ کا بیٹوں پر اعتماد قائم نہیں رہتااور تو اور بسااوقات یہ شکوک و شبہات میاں بیوی کے درمیان اس قدر زور پکڑ جاتے ہیں کہ یہ مثالی محبت کا رشتہ تارِ عنکبوت سے بھی زیادہ کچا دھاگہ ثابت ہوتاہے اور آن واحد میں اس پائیدار محبت کے تار وپوبکھر جاتےہیں۔ لوگ وسوسوں کی لپیٹ میں آکر اپنے ہاتھوں سے اپنا گلشن آگ کے حوالے کربیٹھتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہےکہ اپنی طبیعت کو شگفتہ رکھا کریں ، یہاں یہ بات بھی یاد رکھنا چاہیے کہ وسوسوں سے گھبراہٹ میں مبتلا ہونے کی بجائے نبوی تعلیمات کے ذریعے ان کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ وسوسوں کا آنا انسان کے ایمان کی دلیل ہے، لہٰذا جب بھی کسی کو پریشان کُن خیالات ستائیں تو لاپرواہی یا بے احتیاطی کی بجائے ان شیطانی وساوس کو دور کرنے کی فکر کرنا چاہیے , پیر محمد عبیداللہ نقشبندی،،،03035062601www.malikhassaanmoaviya.blogspot.com

Comments